تحریر: فاطمہ نساء
حوزہ نیوز ایجنسی| ظلم کو فقط برا سمجھنا کافی نہیں، کیونکہ اس صلاحیت کو خدا نے تمام بشر کی فطرت میں رکھ دیا ہے۔ اس کے لیے کیونکہ" حسن قبح عقلی" یعنی انسانی عقل اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اچھائی کو پسند کیا جائے اور برائی سے دوری اختیار کی جائے۔ اگرچہ اس فطری عمل اور احساس کو تمام انسان محسوس کرتے ہیں مگر کچھ لوگ اپنے اس فطری احساس کو زندہ رکھتے ہوئے اسے عملی جامہ بھی پہناتے ہیں۔ چاہے پھر یہ عمل ان کے حق میں ہو یا پھر ان کے خلاف اور کچھ لوگ صرف انہیں اپنے مفاد کے تحت قبول کرتے اور کچھ لوگ اس فطری عمل کو صرف اپنے مفاد کے تحت قبول کرتے ہیں۔ اگر ان کے حق میں نہ ہوا تو اچھا بھی برا ہے اور اگر ان کے حق میں ہوا تو برا بھی اچھا ہے۔ جب انسان اپنی فطرت کو اس آلودگی میں ڈال دیتا ہے، یعنی اپنی فطرت جس پاک فطرت پر خدا نے اسے خلق فرمایا ہے اس کے خلاف عمل کرتا ہے تو پھر اس کی سرزنش میں خدا اس طرح ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْـتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ. (42 بقرہ) حق کو باطل کے ذریعے مت چھپاؤ اور حقیقت کو اس کے جانتے ہوئے پنہان مت کرو۔
بعض اوقات انسان جان بوجھ کر باطل کا ساتھ نہیں دیتا، بلکہ حق اور باطل آپس میں ایسے مخلوط ہوتے ہیں کہ ان کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے؛ لیکن انسان اپنے نفس کی اصلاح اور خدا کی مدد سے اس مرحلے کو پہچان سکتا ہے جیسا کہ قران میں خدا فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔انفال(۲۹) اے ایمان والو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق اور باطل کی تمیز عطا فرمائے گا؛ تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دے گا اور تمہاری مغفرت فرمائے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔
آج تک جتنی بھی بڑی شخصیات کا ناحق خون بہایا گیا ہے تو وہ صرف اسی وجہ سے ہے کہ یا تو لوگوں میں بصیرت نہیں تھی یا پھر ایمان کی کمزوری؛ جس کی وجہ سے انسان ظالم سے خوف کھاتا ہے اور وہ ظالم کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا، لہٰذا واحد خدا پر پختہ ایمان ہی ہے جو انسان کو نڈر بناتا ہے۔









آپ کا تبصرہ